ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / رافیل کی فائلیں چوری ہونے پر کمار وشواس بولے۔ لو جی، نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری

رافیل کی فائلیں چوری ہونے پر کمار وشواس بولے۔ لو جی، نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری

Wed, 06 Mar 2019 23:40:40    S.O. News Service

نئی دہلی، 06 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ میں رافیل کیس کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے بتایا کہ وزارت دفاع سے رافیل کی کچھ خفیہ فائلیں چوری ہو گئیں۔اس پر شاعر کمار وشواس نے نشانہ لگاتے ہوئے کہا ہے کہ بھگوان مالک ہے یا وہ مالک ہیں جو ان دنوں بھگوان ہیں۔دراصل مرکزی حکومت کی جانب سے بدھ کو سپریم کورٹ میں پیش اٹارنی جنرل کے وینو گوپال نے رافیل کے خفیہ کاغذات چوری ہونے کا انکشاف کیا۔انہوں نے یہ باتیں رافیل معاملے میں نظر ثانی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران کہی۔اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ وکیل پرشانت بھوشن جن کاغذات پر انحصار کر رہے ہیں، وہ وزارت دفاع سے چوری کئے گئے ہیں۔جس کی جانچ چل رہی ہے۔اس پر سپریم کورٹ نے اسے انتہائی سنگین مانتے ہوئے پوچھا اب تک کیا کارروائی ہوئی ہے۔سپریم کورٹ میں بحث کرتے ہوئے پرشانت بھوشن نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ میں اضافی حلف نامہ دینا چاہتے ہیں جو این رام کے مضمون پر ہے۔اس پر سی جے آئی رنجن گوگوئی نے کہا کہ ہم کسی اور حلف نامے کو نہیں دیکھنا چاہتے، ہم نے آپ کی نظر ثانی کی درخواست پڑھی ہے، لہٰذا آپ اس پر بحث کیجیے۔شاعر کمار وشواس نے رافیل کی فائلیں غائب ہونے کو لے کر اپنے خاص انداز میں طنز کسا۔انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ لو جی،نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔یہ تو خفیہ سرکاری دستاویزات ہیں! ایسے مسئلوں میں تو سینکڑوں لوگ غائب ہو جاتے ہیں! یہ بڑی جانچی پرکھی ویاپم عادت ہے! بھگوان مالک ہے یا وہ مالک ہیں جو ان دنوں بھگوان ہیں۔غور طلب ہے کہ دسمبر میں ہوئی سماعت میں سپریم کورٹ نے رافیل سودے کو لے کر مودی حکومت کو راحت دی تھی۔سپریم کورٹ سے حکومت نے بعد میں فیصلے میں سی اے جی رپورٹ کا ذکر کرنے والے ایک حصے میں بہتری کی مانگ کی تھی۔اس کے علاوہ پرشانت بھوشن، یشونت سنہا، ارون شوری نے بھی فیصلے کے خلاف نظر ثانی عرضیاں داخل کی تھی، جس پر سماعت کی جا رہی ہے۔


Share: